ڈاکٹر عبدالمدبر نے بتایا کہ اس وقت میو ہسپتال میں منکی پاکس کے 6 مریض زیرِ علاج ہیں جبکہ لاہور اور اس کے گرد و نواح سے بھی مسلسل نئے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔
ان کے مطابق یہ بیماری ہر عمر کے افراد کو متاثر کر رہی ہے اور حیران کن بات یہ ہے کہ زیادہ تر متاثرہ مریضوں کی کوئی حالیہ بیرونِ ملک سفر کی تاریخ موجود نہیں۔
انہوں نے کہا کہ منکی پاکس کے کیسز میں اضافہ باعثِ تشویش ہے، تاہم عوام کو گھبرانے کی ضرورت نہیں بلکہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے۔
ڈاکٹر عبدالمدبر نے شہریوں کو ہدایت کی کہ اگر کسی کے جسم پر سرخ دھبے، شدید خارش یا تیز بخار جیسی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر قریبی ہسپتال سے رجوع کریں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ منکی پاکس کی کوئی مخصوص اور حتمی دوا موجود نہیں، تاہم زیادہ تر مریض تقریباً 14 دن کے اندر صحت یاب ہو جاتے ہیں، ان کے مطابق خوش آئند بات یہ ہے کہ رواں سال اب تک اس بیماری سے کسی مریض کی موت رپورٹ نہیں ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں:تونسہ میں 300 سے زائد بچوں میں ایچ آئی وی کیسز کی تصدیق
یاد رہے کہ گزشتہ سال منکی پاکس کے 21 کیسز رپورٹ ہوئے تھے جن میں 3 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے، صحت حکام نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کی ہدایت کی ہے۔