پاکستان میں تیل کی درآمد کا نیا راستہ کھل گیا
نئی پالیسی کے تحت غیر ملکی تیل فراہم کرنے والے اپنی پٹرولیم مصنوعات پاکستان لا کر کسٹمز بانڈڈ گوداموں میں محفوظ رکھ سکیں گے۔ انہیں مقامی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریفائنریز کو مصنوعات فروخت کرنے کے ساتھ ساتھ ضرورت پڑنے پر دوبارہ برآمد کرنے کی بھی اجازت ہوگی۔
حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد عالمی سپلائرز کو مقامی مارکیٹ کی جانب راغب کرنا ہے اور ملک میں پٹرولیم مصنوعات کا اضافی ذخیرہ قائم کرنا ہے تاکہ توانائی کی ضرورت پوری کرنے میں مدد مل سکے۔
کسٹمز بانڈڈ سٹوریج کے ذریعے درآمدی پالیسی 2026 میں غیر ملکی سپلائرز کے لیے نئے قواعد شامل کیے گئے ہیں۔ ان کے تحت سپلائرز پاکستان میں اپنا سٹاک رکھ سکیں گے، تاہم اس مرحلے پر ملکی ڈیوٹیز اور ٹیکسز فوری طور پر عائد نہیں ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرول 139 اور ڈیزل 116 روپے فی لیٹر مہنگا فروخت ہونے کا انکشاف
نئے نظام کے تحت غیر ملکی کمپنیوں کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ وہ اپنے ذخیرے کو پاکستان کی مقامی مارکیٹ میں فراہم کریں یا اسے کسی دوسرے ملک کو دوبارہ برآمد کریں۔
اس پالیسی کا بنیادی مقصد تیل کی سپلائی میں لچک پیدا کرنا، عالمی سپلائرز کی شرکت بڑھانا اور ملک کی توانائی کے سکیورٹی بفر کو مضبوط بنانا ہے۔