عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ
global oil prices surge
فائل فوٹو
تہران: (ویب ڈیسک) ایران سے جڑی جنگی صورتحال اور سپلائی خدشات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 120 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئیں۔

مشرقی وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں پیر کے روز خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 120 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہیں جو کہ 2022 کے بعد بلند ترین سطح سمجھی جارہی ہے۔

عالمی مارکیٹ میں بھی برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 119.50 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جبکہ امریکی معیار کے خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت بھی ایک موقع پر 119.48 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی، ماہرین کے مطابق یہ اضافہ حالیہ برسوں میں ایک دن کے دوران ہونے والی بڑی بڑھوتری میں شمار کیا جارہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تیزی بنیادی طور پر مشرق وسطی میں تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے باعث سامنے آئی ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے راستے ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ عالمی منڈی کیلئے بڑی تشویش بن گیا ہے، یہ سمندری گزرگاہ دنیا میں تیل کی ترسیل کے اہم ترین راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے روزانہ عالمی تیل کی کھپت کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔

تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافے کے اثرات دیگر عالمی منڈیوں پر بھی پڑے ہیں جہاں زرعی اجناس اور خوردنی تیل سے جڑی فصلوں کی قیمتیں بڑھ گئیں، ملائشیا کا پام آئل تقریباً 9 فیصد مہنگا ہوگیا جبکہ شکاگو میں سویابین آئل کی قیمت 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، اسی طرح گندم اور مکئی کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان اسٹاک ایکسچینج مارکیٹ کریش کر گئی

دھاتوں کی عالمی مارکیٹ میں بھی نمایاں تیزی  دیکھی گئی ہے جہاں ایلومینیم کی قیمت 4 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی اور لندن میٹل ایکسچینج میں اسکی قیمت 3 ہزار 544 ڈالر فی ٹن تک جا پہنچی۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطی کی صورت حال برقرار رہی تو عالمی توانائی مارکیٹ اور معیشت پر اسکے اثرات مزید گہرے ہوسکتے ہیں۔

ضرور پڑھیں