سوال: زکوٰۃ اور فطرانہ میں کیا فرق ہے اور کن اوقات میں ادا کرنے چاہیے؟
سوال: زکوٰۃ اور فطرانہ میں کیا فرق ہے اور کن اوقات میں ادا کرنے چاہیے؟

جواب: صدقہ فطر اور زکوٰۃ دونوں الگ الگ مستقل مالی عبادتیں ہیں، دونوں کا الگ الگ نصاب ہے، کسی ایک کے ادا کرنے سے دوسرا ہرگز ادا نہیں ہوگا۔

صدقہ فطر ہر اس شخص پر (اپنی طرف سے اور زیرِ کفالت نابالغ اولاد کی طرف سے) لازم ہوتا ہے جو عید الفطر کے دن صبح صادق کے وقت ضرورتِ اصلیہ اور استعمال سے زائد اتنے سامان یا مال کا مالک ہو جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زائد ہو خواہ وہ مال نقدی، سونا، چاندی یا مالِ تجارت کی صورت میں نہ ہو۔ اسی طرح اس کے وجوب کے لیے مال کے اوپر سال گزرنا بھی شرط نہیں ہے۔

جبکہ زکوٰۃ صرف مالِ نامی پر واجب ہوتی ہے اور مالِ نامی سے مراد سونا، چاندی، نقدی، مالِ تجارت، سائمہ جانور ہیں۔ مذکورہ اموال میں سے کسی ایک کے نصاب تک مال پہنچ جائے یا مختلف اموال موجود ہونے کی صورت میں ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت تک نصاب پہنچ جائے اور وہ بنیادی ضرورت سے زائد ہو تو زکوٰۃ واجب ہوجاتی ہے اور سال پورا ہوجانے پر زکوٰۃ کی ادائیگی واجب ہوتی ہے۔