نوٹیفکیشن کے مطابق سرکاری افسران کی گاڑیوں کے پٹرول کوٹے میں 50 فیصد کمی کر دی گئی ہے جبکہ وزراء اور افسران کے پروٹوکول گاڑیوں کے اسکواڈ پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ سیکیورٹی گاڑیوں کی تعداد بھی محدود کر کے صرف ایک اسکواڈ تک کر دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا بازار، مارکیٹیں ، شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ
حکومت نے نئی سرکاری گاڑیوں کی خریداری پر جون 2026 تک پابندی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سرکاری دفاتر میں ورک فرام ہوم پالیسی نافذ کر دی گئی ہے، جس کے تحت صرف ضروری عملہ دفاتر میں طلب کیا جائے گا۔ پنجاب بھر میں چار دن کا ورک ویک نافذ کیا گیا ہے جبکہ جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو چھٹی ہوگی۔
نوٹیفکیشن میں سرکاری دفاتر میں آن لائن میٹنگز کو فروغ دینے اور سرکاری ڈنرز و غیر ضروری تقریبات پر پابندی عائد کرنے کی ہدایت بھی شامل ہے۔ پٹرول کی فراہمی کی نگرانی کے لیے ضلعی کمیٹیاں قائم کی جائیں گی جبکہ ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم بھی نافذ کیا جائے گا۔
حکومت نے نجی شعبے کو بھی ورک فرام ہوم اپنانے کی ہدایت جاری کی ہے اور عوام سے غیر ضروری تقریبات اور اجتماعات سے گریز کرنے کی اپیل کی ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ کرایوں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی سخت نگرانی کا حکم بھی دیا گیا ہے۔
مزید برآں، تمام دکانیں اور مارکیٹیں رات 8 بجے بند کرنے کا حکم جاری کیا گیا ہے، تاہم میڈیکل اسٹورز، پیٹرول پمپس اور تندورز کو اس سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔ ہوٹلز اور ریسٹورنٹس رات 10 بجے تک بند ہوں گے جبکہ ٹیک اوے اور ہوم ڈیلیوری سروسز پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق شادی ہالز اور تقریبات کو رات 10 بجے تک ختم کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے جبکہ گھروں اور فارم ہاؤسز میں ہونے والی شادی کی تقریبات کو بھی اسی وقت تک محدود رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔