ایک ٹی وی انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے عارف حبیب نے کہا کہ ایئرلائن اب تک کسی نہ کسی طرح اپنے آپریشنز جاری رکھنے میں کامیاب رہی ہے لیکن ایوی ایشن فیول کی بڑھتی قیمتیں مستقبل میں کام جاری رکھنا مشکل بنا دیں گی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 21 مارچ سے جی پی-1 کی قیمت میں 84 روپے فی لیٹر (21.65 فیصد) اضافہ ہوا جس کے بعد قیمت 388 روپے سے بڑھ کر 472 روپے فی لیٹر ہو گئی۔ یکم مارچ سے اب تک قیمت 190 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر تقریباً 150 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
عارف حبیب نے اس اضافے کو حکومت کی کراس سبسڈی پالیسی سے جوڑا جس کے تحت عام صارفین پر تیل کی بڑھتی قیمتوں کا بوجھ کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے فنڈز اکٹھا کرنے کے لیے ایوی ایشن فیول اور ہائی آکٹین مصنوعات کی قیمتیں بڑھائی ہیں جبکہ کفایت شعاری اقدامات سے حاصل ہونے والی بچت پر بھی انحصار کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا لوڈشیڈنگ اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ
ان کے مطابق پاکستان میں فیول کی قیمتیں بڑھائی گئی ہیں مگر عالمی مارکیٹ کے مطابق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بوجھ کو جزوی طور پر کفایت شعاری اور جزوی طور پر کراس سبسڈی کے ذریعے تقسیم کر رہی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایوی ایشن فیول کو عوام سے غیر متعلق سمجھنا پالیسی کی غلطی ہے کیونکہ اس کے اثرات بالآخر عام لوگوں تک بھی پہنچتے ہیں۔
عارف حبیب نے کہا کہ ایئرلائن نے موجودہ مہینہ کسی طرح گزار لیا ہے لیکن مستقبل میں یہ صورتحال برقرار رکھنا ممکن نہیں ہوگا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے اپنا فیصلہ واپس نہ لیا تو پی آئی اے اپنے آپریشنز جاری نہیں رکھ سکے گی اور اسے بند کرنا پڑ سکتا ہے۔