حکام نے خبردار کیا ہے کہ مائع قدرتی گیس کی فراہمی میں نمایاں کمی متوقع ہے جو اس وقت ملک کی بجلی پیداوار کا 21 فیصد سے زیادہ حصہ ہے۔ امکان ہے کہ اگلے ماہ سے کی فراہمی تقریباً ختم ہو سکتی ہے، چاہے علاقائی حالات بہتر ہی کیوں نہ ہو جائیں۔
گرمیوں میں بجلی کی طلب عام طور پر 27,000 سے 28,000 میگاواٹ تک پہنچ جاتی ہے جبکہ اس وقت طلب 14,000 میگاواٹ سے کم ہے جس کی ایک وجہ سولر انرجی کا بڑھتا ہوا استعمال بھی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 200 ڈالر تک جانے خدشہ
موجودہ حالات کے پیش نظر روزانہ اوسطاً 2 سے 3 گھنٹے لوڈشیڈنگ متوقع ہے جو ایندھن کی دستیابی پر منحصر ہوگی۔ حکومت سخت توانائی بچاؤ اقدامات اور بجلی کے بلوں میں خودکار فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ بھی متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
مزید برآں، ساہیوال اور جامشورو کے بڑے پاور پلانٹس کو کوئلے کی ترسیل میں مسائل کا سامنا ہے جو پاکستان ریلوے اور پلانٹ آپریٹرز کے درمیان تنازعات کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ اس سے تقریباً 1,800 میگاواٹ بجلی کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔
اگر ایندھن کی کمی برقرار رہی تو گرمیوں میں مزید لوڈشیڈنگ اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔