بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق دنیا نے ابھی تک اس بحران کی اصل سنگینی کو پوری طرح نہیں سمجھا۔ امریکی حکومتی عہدیداروں اور وال اسٹریٹ کے ماہرین معاشیات اس امکان پر غور کر رہے ہیں کہ اگر آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل متاثر رہی تو عالمی منڈی میں شدید قلت پیدا ہو سکتی ہے۔ اس صورتحال میں نہ صرف تیل کی قیمتیں بلند ہوں گی بلکہ اس کے اثرات پوری عالمی معیشت پر مرتب ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کا اسرائیل میں کیمیکل پلانٹ پر حملہ، ہنگامی صورتحال نافذ
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ صورتحال 1970 کی دہائی کے تیل بحران کی یاد تازہ کر سکتی ہے، جب عالمی سطح پر توانائی کا شدید بحران پیدا ہو گیا تھا۔ ان کے مطابق اگر آبنائے ہرمز بند ہو جاتی ہے تو سب سے پہلے ایشیائی ممالک کو ایندھن کی قلت کا سامنا ہوگا، جو بعد ازاں یورپ اور دیگر مغربی ممالک تک پھیل سکتی ہے۔ یورپ میں آنے والے ہفتوں کے دوران ڈیزل کی شدید کمی کا بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے صنعتی پیداوار اور ٹرانسپورٹ کا نظام متاثر ہو سکتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق آبنائے ہرمز کے ذریعے روزانہ تقریباً 11.1 ملین بیرل تیل کی سپلائی ہوتی ہے، جو عالمی توانائی کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ ہے۔ اگر یہ راستہ بند ہو جاتا ہے تو عالمی سپلائی چین میں بڑا خلل پیدا ہوگا۔ تاہم سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے متبادل راستوں کے ذریعے تقریباً 10.9 ملین بیرل یومیہ تیل کی ترسیل برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے، لیکن ماہرین کے مطابق یہ متبادل مکمل طور پر اس خلا کو پُر نہیں کر سکتے۔
ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں ممکنہ اضافہ عالمی مہنگائی میں تیزی، صنعتوں کی پیداواری لاگت میں اضافے اور بے روزگاری میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ خاص طور پر ترقی پذیر ممالک جیسے پاکستان اس بحران سے زیادہ متاثر ہوں گے، جہاں پہلے ہی مہنگائی اور توانائی کے مسائل موجود ہیں۔ موجودہ صورتحال نے دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور عالمی برادری اس بحران کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی پر غور کر رہی ہے۔