یومِ حقِ خود ارادیت برائے کشمیر کی تیاریاں

یوم حق خو ارادیت وہ دن ہے جب کشمیر کا مسئلہ محض ایک سیاسی تنازع نہیں رہتا بلکہ ایک زندہ سوال بن کر عالمی ضمیر کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔ یہ دن کشمیری عوام کے اس بنیادی حق کی یاد دہانی ہے جسے اقوامِ عالم نے تسلیم تو کیا، مگر نافذ نہ کر سکے۔ پاکستان، آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں اس دن کی تیاریوں کا مقصد محض تقریبات نہیں بلکہ اجتماعی شعور کی تجدید ہے۔

پاکستان میں تیاریاں

پاکستان بھر میں یومِ حقِ خود ارادیت کی تیاریاں ایک منظم قومی جذبے کے تحت جاری ہیں۔ دارالحکومت سے لے کر ضلعی سطح تک سیمینارز، ریلیاں، واکس اور خصوصی تقاریب منعقد کی جا رہی ہیں۔ سیاسی و سماجی حلقے، وکلاء، اساتذہ اور طلبہ اس دن کو کشمیری عوام کے ساتھ ہم آواز ہو کر ببرپور طریقہ سے منا رہے ہیں، تاکہ دنیا کو واضح پیغام دیا جا سکے کہ کشمیر پاکستان کی خارجہ پالیسی کا محض ایک نکتہ نہیں بلکہ قومی ضمیر کا مسئلہ ہے۔

آزاد کشمیر میں تیاریاں

آزاد کشمیر میں یومِ حقِ خود ارادیت کی تیاریوں کا منظر منفرد اور معنی خیز ہے۔ یہاں یہ دن کسی قرارداد یا تقریر تک محدود نہیں بلکہ روزمرہ کی حقیقت سے جڑا ہوا ہے۔ مختلف اضلاع میں عوامی اجتماعات، شہداء کی یادگاروں پر تقاریب اور نوجوانوں کے زیرِ اہتمام پروگرامز منعقد ہو رہے ہیں، جو اس امر کی گواہی دیتے ہیں کہ کشمیری عوام کی جدوجہد وقتی نہیں بلکہ نسلی اور تاریخی ہے۔

مقبوضہ کشمیر: جبر کے سائے میں مزاحمت کی تیاری

مقبوضہ کشمیر میں حالات جتنے بھی سخت ہوں، یومِ حقِ خود ارادیت کی تیاریوں کی خبر خود ایک مزاحمت ہے۔ پابندیوں، کرفیو اور اطلاعاتی ناکہ بندی کے باوجود کشمیری عوام علامتی احتجاج، گھریلو سطح پر دعاؤں اور خاموش مزاحمت کے ذریعے اس دن کو یاد کر رہے ہیں۔ یہ طرزِ عمل اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ بندوق کے زور سے عوامی امنگوں کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔

نوجوان نسل: بیانیے کی نئی تشکیل

اس سال کی تیاریوں میں سب سے نمایاں پہلو نوجوانوں کی بھرپور شمولیت ہےیونیورسٹیوں اور کالجوں میں مباحثے،ڈیجیٹل کمپینز اور تحقیقی نشستیں منعقد کی جا رہی ہیں جہاں مسئلہ کشمیر کو تاریخ، قانون اور انسانی حقوق کے تناظر میں پیش کیا جا رہا ہے۔ نوجوان نسل سوشل میڈیا کو بطور مؤثر ہتھیار استعمال کرتے ہوئے دنیا بھر میں کشمیریوں کی آواز پہنچا رہی ہے۔

خواتین اور سول سوسائٹی کا فعال کردار

یومِ حقِ خود ارادیت کی تیاریوں میں خواتین اور سول سوسائٹی کا کردار بھی نمایاں ہے۔ خواتین کی تنظیمیں انسانی حقوق، جبری گمشدگیوں اور متاثرہ خاندانوں کے مسائل کو اجاگر کر رہی ہیں۔سول سوسائٹی کے پلیٹ فارمز پر منعقد ہونے والی تقاریب اس جدوجہد کو ایک اخلاقی اور انسانی رنگ دیتی ہیں جو عالمی برادری کے لیے زیادہ قابلِ فہم اور مؤثر ہے۔

میڈیا کی گونج

پاکستانی میڈیا اس دن خصوصی نشریات، دستاویزی پروگرامز اور تجزیاتی مباحث کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کر رہا ہے۔ ذمہ دار صحافت کا تقاضا ہے کہ جذبات کے ساتھ ساتھ حقائق، اعداد و شمار اور بین الاقوامی قوانین کو بھی سامنے رکھا جائے۔ یومِ حقِ خود ارادیت کی تیاریوں میں میڈیا کا یہ کردار مسئلے کو زندہ رکھنے میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

عالمی سطح پر سرگرمیاں

حق خود ارادیت کی تیاریوں کا دائرہ پاکستان تک محدود نہیں۔ بیرونِ ملک پاکستانی اور کشمیری ہم آواز ہو کر عالمی دارالحکومتوں میں مظاہروں، سیمینارز اور پارلیمانی بریفنگز کا اہتمام کر رہے ہیں۔ ان سرگرمیوں کا مقصد عالمی رائے عامہ کو متحرک رکھنا اور فیصلہ ساز حلقوں کو یاد دلانا ہے کہ کشمیر ایک حل طلب بین الاقوامی مسئلہ ہے۔

روحانیت اور دعا

یومِ حقِ خود ارادیت کی تیاریوں میں مساجد میں خصوصی دعائیں، شہداء کے لیے ایصالِ ثواب اور صبر واستقامت کی تلقین شامل ہے۔ یہ روحانی پہلو جدوجہد کو محض سیاسی نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے اخلاقی اور انسانی بنیاد فراہم کرتا ہے، جو کسی بھی طویل تحریک کے لیے ناگزیر ہوتی ہے۔

حق خو ارادیت کا پیغام

حق خود ارادیت کی تقاریب اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ مسئلہ کشمیر کا حل محض وقتی بیانات یا رسمی مذاکرات سے ممکن نہیں۔ یہ دن عالمی برادری کو یہ پیغام دیتا ہے کہ پائیدار امن انصاف کے بغیر ممکن نہیں، اور انصاف کا تقاضا ہے کہ کشمیری عوام کو ان کا حقِ خود ارادیت دیا جائے۔

کشمیر، ایک زندہ ضمیر

جب پانچ جنوری کو پاکستان، آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں یہ تقاریب منعقد ہوں گی تو دنیا ایک بار پھر یہ سنے گی کہ کشمیر محض ایک خطہ نہیں بلکہ ایک زندہ ضمیر ہے۔ یومِ حقِ خود ارادیت کی یہ تیاریاں اس عزم کی علامت ہیں کہ کشمیری عوام کی جدوجہد نہ ماضی کا قصہ ہے، نہ حال کا شور بلکہ مستقبل کی ایک یقینی حقیقت ہے۔