ایک جنگ، کئی فیصلے، پاکستان کا عالمی قد کیوں بڑھا؟

مئی 2025 کی پاک بھارت کشیدگی محض ایک عسکری تصادم نہیں تھا بلکہ یہ اس پورے خطے کی اسٹریٹجک سمت کے تعین کا لمحہ ثابت ہوا، تاریخ گواہ ہے کہ برصغیر میں ہر جنگ کے بعد اصل مقابلہ میدانِ جنگ سے زیادہ سفارتی محاذ پر ہوتا ہے جہاں بیانیہ، تاثر اور عالمی حمایت فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں، اس بار بھی یہی ہوا، مگر فرق یہ تھا کہ پاکستان پہلی مرتبہ دفاعی پوزیشن میں نہیں بلکہ اعتماد، تیاری اور واضح حکمتِ عملی کے ساتھ عالمی منظرنامے پر ابھر کر سامنے آیا۔

یہی وجہ ہے کہ مئی کی جنگ کے بعد پاکستان کو عالمی تنہائی کا سامنا کرنے کے بجائے غیر معمولی سفارتی پذیرائی حاصل ہوئی جس کا اعتراف اب مغربی میڈیا بھی کھلے لفظوں میں کر رہا ہے۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی کی یہ کامیابی کسی ایک دن یا ایک ملاقات کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک مسلسل اور مربوط سوچ کی عکاس ہے، ماضی میں پاکستان پر اکثر یہ الزام لگتا رہا کہ وہ خارجہ محاذ پر ردِعمل کی سیاست کرتا ہے لیکن حالیہ مہینوں میں یہ تاثر واضح طور پر ٹوٹا ہے، مئی کی کشیدگی کے دوران پاکستان نے نہ جذباتی زبان استعمال کی اور نہ ہی غیر ذمہ دارانہ دھمکیاں دیں۔

پاکستان کی عسکری کارروائی محدود، نپی تلی اور دفاعی نوعیت کی تھی جبکہ سفارتی محاذ پر خاموش مگر مؤثر رابطے جاری رہے، یہی وہ توازن تھا جس نے عالمی طاقتوں کو یہ باور کرایا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے جو طاقت رکھتی بھی ہے اور اسے استعمال کرنا بھی جانتی ہے۔

اس پورے منظرنامے میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے، انہوں نے محض ایک عسکری سربراہ کے طور پر نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک اسٹیٹس مین کے طور پر خود کو منوایا، مئی کے بعد واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ان کی ملاقات کو اگر محض ایک رسمی عسکری رابطہ سمجھا جائے تو یہ حقیقت کو کم کر کے دیکھنے کے مترادف ہوگا۔

یہ ملاقات اس بات کا عملی اظہار تھی کہ پاکستان کی عسکری قیادت اب عالمی فیصلہ سازوں کے ساتھ براہِ راست اور اعتماد پر مبنی مکالمہ کر رہی ہے، ٹرمپ کی جانب سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو غیر معمولی اہمیت دینا اور انہیں ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر دیکھنا اس بدلتے ہوئے عالمی رویے کی واضح علامت ہے۔

دی ٹیلی گراف جیسے معتبر برطانوی جریدے کا یہ اعتراف کہ پاکستان نے 2025 میں عالمی سطح پر اپنی سفارتی اور عسکری موجودگی کو مضبوط کیا دراصل مغربی اسٹیبلشمنٹ کے ذہن میں آنے والی تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے، ماضی میں پاکستان کو اکثر مسئلہ سمجھا جاتا تھا مگر اب اسے حل کا حصہ تسلیم کیا جا رہا ہے، ایبی گیٹ حملے کے ملزم کی گرفتاری اور صرف دو دن کے اندر امریکا کے حوالے کرنا اسی عملی سوچ کا تسلسل تھا، یہ اقدام محض قانونی یا سکیورٹی تعاون نہیں تھا بلکہ ایک مضبوط سفارتی پیغام تھا کہ پاکستان اب وعدوں سے آگے بڑھ کر نتائج دینے کی پوزیشن میں ہے۔

اس تمام عمل میں وزیراعظم شہباز شریف کا کردار بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، پاکستان کی تاریخ میں سول اور عسکری قیادت کے درمیان ہم آہنگی ہمیشہ ایک چیلنج رہی ہے مگر حالیہ عرصے میں یہ ہم آہنگی خارجہ پالیسی کی طاقت بن کر ابھری، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی صدر ٹرمپ سے ملاقاتوں نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان اندرونی تقسیم کا شکار نہیں بلکہ ایک مربوط ریاست کے طور پر فیصلے کر رہا ہے ، یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو اوول آفس تک براہِ راست رسائی ملی اور اسے ایک سنجیدہ شراکت دار کے طور پر سنا گیا۔

مئی کی جنگ کے بعد بھارت نے حسبِ روایت اپنی سفارتی لابنگ کو پوری شدت سے استعمال کرنے کی کوشش کی، عالمی میڈیا، تھنک ٹینکس اور سیاسی حلقوں میں پاکستان کو جارح ثابت کرنے کا بیانیہ ایک بار پھر متحرک کیا گیا مگر اس بار یہ حکمتِ عملی کارگر ثابت نہ ہو سکی، اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ پاکستان کے پاس نہ صرف اپنا مؤقف تھا بلکہ اس کے پاس عملی شواہد بھی تھے۔

جنگ کے دوران تحمل اور بعد ازاں سفارتی رابطے اور پھر عالمی فورمز پر ذمہ دارانہ رویہ، یہ سب عناصر مل کر پاکستان کے حق میں فضا بناتے چلے گئے، نتیجتاً بھارت کی بھرپور لابنگ کے باوجود پاکستان کو کئی محاذوں پر سفارتی سبقت حاصل ہوئی۔

اسی تناظر میں پاکستان کو تجارتی اور معاشی سطح پر بھی بہتر رعایتیں ملیں، ٹیرف کے معاملات ہوں یا عالمی مالیاتی حلقوں میں اعتماد کی بحالی، پاکستان نے خود کو ایک ابھرتے ہوئے اسٹریٹجک اور اقتصادی شراکت دار کے طور پر پیش کیا، اوول آفس میں براہِ راست رسائی، اعلیٰ سطحی روابط اور عالمی فورمز پر پذیرائی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان محض دفاعی یا سکیورٹی تناظر میں نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت ریاست کے طور پر دیکھا جانے لگا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کا بڑھتا ہوا کردار اس خارجہ پالیسی کی ایک اور اہم جہت ہے، سعودی عرب، خلیجی ممالک اور ایران کے ساتھ متوازن اور محتاط تعلقات نے پاکستان کو ایک ذمہ دار علاقائی طاقت کے طور پر منوایا، دفاعی تعاون، حساس سکیورٹی معاملات میں اعتماد اور مذہبی و سیاسی توازن نے پاکستان کے لیے ایک نیا تشخص تشکیل دیا جسے بعض حلقے اب محافظِ حرمین شریفین کے کردار سے تعبیر کر رہے ہیں، یہ محض ایک علامتی شناخت نہیں بلکہ عملی سفارت کاری کا نتیجہ ہے جس میں پاکستان نے خود کو امتِ مسلمہ کے اہم معاملات میں ایک قابلِ اعتماد ستون کے طور پر پیش کیا۔

غزہ کے معاملے پر بھی پاکستان کا مؤقف اسی سفارتی پختگی کی مثال ہے جہاں کئی ممالک محتاط خاموشی اختیار کیے ہوئے تھے وہاں پاکستان نے اصولی اور واضح موقف اپنایا مگر ایسے انداز میں کہ کسی بڑے عالمی بلاک سے محاذ آرائی بھی نہ ہو، یہی توازن وہ عنصر ہے جو پاکستان کی موجودہ خارجہ پالیسی کو ماضی سے مختلف بناتا ہے۔

ستمبر 2025 میں امریکا کے ساتھ اہم معدنیات کے حوالے سے طے پانے والا ایم او یو اس خارجہ پالیسی کا ایک اور اہم سنگِ میل ہے۔ چھ کھرب ڈالر مالیت کے معدنی ذخائر پر تعاون نے پاکستان کو محض جغرافیائی اہمیت رکھنے والی ریاست کے بجائے ایک اقتصادی اسٹریٹجک اثاثے کے طور پر پیش کیا۔ دنیا کو درکار نایاب معدنیات اور توانائی وسائل کے تناظر میں پاکستان نے خود کو ایک حل فراہم کرنے والے ملک کے طور پر منوایا، جس نے عالمی سطح پر غیر معمولی توجہ حاصل کی۔

مئی کی جنگ کے بعد جو سب سے اہم تبدیلی دیکھنے میں آئی وہ یہ تھی کہ پاکستان نے خود کو دفاعی بیانیے سے نکال کر ایک فعال اور باوقار ریاست کے طور پر پیش کیا، یہ وہ پاکستان تھا جو جنگ کے بعد بھی امن کی بات کرتا ہے مگر کمزوری کے ساتھ نہیں بلکہ طاقت اور اعتماد کے ساتھ، یہی وجہ ہے کہ عالمی میڈیا، چاہے وہ برطانوی ہو یا امریکی، پاکستان کو نظرانداز نہیں کر سکا اور اسے پاکستان کی خارجہ پالیسی کی کامیابیوں کا اعتراف کرنا پڑا۔

یہ کہنا شاید زیادہ درست ہوگا کہ پاکستان نے عالمی منظرنامے میں محض واپسی نہیں کی بلکہ ایک نئی سطح پر قدم رکھا ہے، مئی 2025 کے بعد پاکستان نہ صرف عسکری توازن میں بلکہ سفارتی وزن میں بھی ایک مختلف مقام پر کھڑا دکھائی دیتا ہے، ایک ایسا ملک جو اپنے مفادات کا دفاع کرنا جانتا ہے، جو عالمی طاقتوں کے ساتھ برابری کی سطح پر بات کر سکتا ہے اور جو مذہبی شناخت، علاقائی ذمہ داری اور جدید ریاستی تقاضوں کو ایک ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہی وہ خارجہ پالیسی ہے جس نے پاکستان کو تنہائی کے اندیشوں سے نکال کر عالمی اعتماد کے دائرے میں لا کھڑا کیا ہے اور یہی وہ راستہ ہے جو آنے والے برسوں میں پاکستان کے کردار کو مزید واضح اور مضبوط کرے گا۔