پاکستان کی سیاست میں کچھ کردار ایسے ہوتے ہیں جو ہر دور میں خود کو ایک اصولی حوالہ سمجھتے ہیں۔ محمود خان اچکزئی بھی انہی میں سے ایک ہیں۔ وہ نہ اسٹیبلشمنٹ کے نمائندہ ہیں، نہ اسٹیبلشمنٹ مخالف تحریک کے سپاہی۔ وہ آئین کے ساتھ کھڑے ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، اور ان کا خیال ہے کہ ریاستی بحران کا واحد حل مکالمہ، برداشت اور آئینی دائرے میں واپسی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ملک میں سیاسی درجۂ حرارت ایک بار پھر نقطۂ ابال کے قریب پہنچا، تو اچکزئی نے ایک بار پھر ثالث کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی۔
تحریک تحفظِ آئین پاکستان کے تحت منعقدہ دو روزہ قومی مشاورتی کانفرنس محض ایک سیاسی اجتماع نہیں تھی، بلکہ یہ ایک بیانیہ قائم کرنے کی کوشش تھی۔ اس کانفرنس کا اعلامیہ دراصل ایک فردِ جرم تھی ریاستی اداروں، حکومت، عدلیہ، انتخابی نظام اور مجموعی سیاسی ڈھانچے کے خلاف۔ شفاف انتخابات، عدلیہ کی آزادی، سیاسی قیدیوں کی رہائی، میڈیا کی آزادی، جبری گمشدگیاں، غزہ، معیشت ہر زخم کو ایک ایک کر کے گنوایا گیا۔ اور پھر اس سب کے بعد، محمود خان اچکزئی نے وہ بات کہی جو اس کانفرنس کا اصل نچوڑ تھی: کہ اب بھی وقت ہے، نواز شریف اور مولانا فضل الرحمٰن آگے آئیں، اور ملک کو تصادم سے بچانے کے لیے مذاکرات کا آغاز کریں۔
یہ اپیل بظاہر معقول تھی، مگر پاکستانی سیاست میں معقول ہونا اکثر ناکافی ثابت ہوتا ہے۔
اسی روز عمران خان کی جانب سے ’’ایکس‘‘ پر جاری ہونے والا بیان اس پورے مکالماتی تصور پر پانی پھیر گیا۔ یہ محض ایک سیاسی بیان نہیں تھا، بلکہ ایک اسٹریٹیجک اعلان تھا۔ عمران خان نے نہ صرف فیلڈ مارشل کے عہدے کو تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ واضح الفاظ میں یہ پیغام دیا کہ احتجاجی تحریک ہی واحد راستہ ہے، اور خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کو اسی سمت تیاری کا حکم دیا گیا ہے۔ اس بیان میں نہ کسی مکالمے کی گنجائش تھی، نہ کسی ثالث کے لیے کوئی دروازہ کھلا چھوڑا گیا تھا۔
یہاں سے محمود خان اچکزئی کی سیاست ایک مشکل موڑ پر داخل ہو جاتی ہے۔ وہ جس پل کی تعمیر کی بات کر رہے تھے، اس پل کو ایک فریق نے بننے سے پہلے ہی گرا دیا۔ پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم کا یہ کہنا کہ احتجاجی پالیسی عمران خان کی ہدایات کے مطابق ہی چلے گی، دراصل اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ پارٹی کے اندر کوئی دوسرا مرکزِ فیصلہ سازی موجود نہیں۔ یوں اچکزئی کی اپیل محض ایک سیاسی مشورہ بن کر رہ گئی، جس پر عملدرآمد کی کوئی ضمانت نہیں تھی۔
اس تمام صورتحال میں دلچسپ پہلو یہ ہے کہ محمود خان اچکزئی کو نہ مکمل طور پر رد کیا گیا، نہ قبول۔ عمران خان نے براہِ راست ان کا نام لے کر مخالفت نہیں کی، مگر عملی طور پر ان کی پیشکش کو غیر متعلق بنا دیا۔ یہ وہ خاموش رد ہے جو پاکستانی سیاست میں اکثر کسی کردار کو سیاسی تنہائی میں دھکیل دیتا ہے۔
دوسری طرف حکومت کا مؤقف اس خلا کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کے قریبی ذرائع کا یہ کہنا کہ 9 مئی کے واقعات پر اظہارِ ندامت یا معذرت کے بغیر پی ٹی آئی سے مذاکرات ممکن نہیں، دراصل ایک سیاسی شرط نہیں بلکہ ایک سیاسی دیوار ہے۔ حکومت نے مکالمے کو اخلاقی اور قانونی مطالبات کے ساتھ مشروط کر دیا ہے، جنہیں ماننا پی ٹی آئی کے لیے اپنی پوری سیاسی جدوجہد کو غلط تسلیم کرنے کے مترادف ہوگا۔
یہی وہ نکتہ ہے جہاں محمود خان اچکزئی کی ثالثی حقیقت سے ٹکرا جاتی ہے۔ ثالثی وہاں ممکن ہوتی ہے جہاں دونوں فریق کم از کم ایک دوسرے کی بات سننے پر آمادہ ہوں۔ یہاں ایک طرف احتجاج کو واحد راستہ سمجھا جا رہا ہے، اور دوسری طرف معذرت کو شرطِ اول بنایا جا رہا ہے۔ اس ماحول میں آئین کی کتاب ہاتھ میں لے کر کھڑے ہونا ایک علامتی عمل تو ہو سکتا ہے، مؤثر حکمتِ عملی نہیں۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں ثالث ہمیشہ طاقت کے توازن کے تابع رہا ہے۔ جب طاقت کے مراکز کسی سیاسی ڈیڈلاک سے نکلنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، تو ثالث کو جگہ ملتی ہے۔ لیکن جب فریقین کو لگے کہ وہ دباؤ کے ذریعے اپنی بات منوا سکتے ہیں، تو پھر کسی محمود خان اچکزئی کی آئینی اپیل بھی محض تقریر بن کر رہ جاتی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ عمران خان اس وقت خود کو سیاسی طور پر دیوار سے لگا ہوا محسوس کر رہے ہیں۔ ان کے نزدیک مکالمہ کمزوری کی علامت ہے، اور احتجاج دباؤ کا واحد ذریعہ۔ اسی لیے وہ کسی ایسی پیشکش کو سنجیدگی سے لینے کو تیار نہیں جو احتجاجی بیانیے کو کمزور کرے۔ دوسری جانب حکومت کے لیے بھی پیچھے ہٹنا اسٹیبلشمنٹ اور اپنے اتحادیوں کے سامنے ایک مشکل پیغام ہوگا۔
یوں محمود خان اچکزئی ایک ایسے سیاسی خلا میں کھڑے نظر آتے ہیں جہاں نیت صاف ہے، مگر اثر نہیں؛ دلیل موجود ہے، مگر اختیار نہیں۔ وہ ایک ایسے سیاستدان کا کردار ادا کر رہے ہیں جو شاید وقت سے پہلے، یا وقت کے بعد پیدا ہو گیا ہے۔ ان کی سیاست کی بنیاد آئین ہے، مگر موجودہ سیاست کی بنیاد طاقت، خوف اور بیانیہ ہے۔
سوال یہ نہیں کہ اچکزئی درست ہیں یا عمران خان، سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کی سیاست میں اب بھی مکالمے کی کوئی کھڑکی کھلی ہے؟ یا پھر ہم ایک بار پھر اس راستے پر چل پڑے ہیں جہاں ہر بحران کا انجام سڑکوں، گرفتاریوں، پابندیوں اور مزید تقسیم کی صورت میں نکلتا ہے؟
تحریک تحفظِ آئین کا اعلامیہ اگر ایک آئینی خواب تھا، تو عمران خان کا بیان ایک زمینی حقیقت۔ اور پاکستانی سیاست ہمیشہ زمینی حقیقت کے ساتھ چلتی ہے، خواہ وہ کتنی ہی تلخ کیوں نہ ہو۔ محمود خان اچکزئی کی سب سے بڑی ناکامی شاید یہ نہیں کہ وہ مذاکرات کرانے میں ناکام رہے، بلکہ یہ ہے کہ انہوں نے ایک ایسی سیاست کو زندہ رکھنے کی کوشش کی جو اب شاید اس ملک میں آخری سانسیں لے رہی ہے۔
یہی وہ المیہ ہے جو اس پورے منظرنامے کو محض ایک سیاسی خبر نہیں رہنے دیتا بلکہ ایک فکری سوال بنا دیتا ہے: کیا پاکستان میں آئین اب بھی سیاست کی بنیاد ہے، یا صرف ایک حوالہ جسے بحران کے وقت یاد کیا جاتا ہے، اور طاقت بحال ہوتے ہی بھلا دیا جاتا ہے؟