این ایف سی ایوارڈ اٹھائیسویں ترمیم کے تناظر میں

 وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کا یہ کہنا کہ این ایف سی فارمولے میں تبدیلی کا فیصلہ ہو چکا ہے، دراصل ایک ایسے آئینی اور سیاسی عمل کی طرف اشارہ ہے جو بظاہر تکنیکی دکھائی دیتا ہے مگر اس کے اثرات دور رس اور گہرے ہوتے ہیں۔ این ایف سی ایوارڈ اور اٹھارویں ترمیم ایک ہی سیاسی زنجیر کی کڑیاں ہیں، ایک کو چھیڑا جائے تو دوسرے کی گونج لازمی سنائی دیتی ہے۔۔ این ایف سی ایوارڈ بظاہر ایک مالی فارمولا ہے، مگر درحقیقت یہ وفاق اور صوبوں کے درمیان اعتماد، اختیار اور سیاسی وزن کا پیمانہ ہے۔ حالیہ دنوں وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کا یہ کہنا کہ ’’این ایف سی فارمولے میں تبدیلی کا فیصلہ ہو چکا ہے‘‘ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ریاست ایک بار پھر اس حساس آئینی معاملے کو کھولنے جا رہی ہے، اور یہ فیصلہ معمولی نہیں ہوگا۔

این ایف سی ایوارڈ کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد طویل عرصے تک وسائل کی تقسیم کا محور صرف آبادی رہا۔ مرکز مضبوط تھا، صوبے کمزور تھے، اور فیصلہ سازی کا اختیار اسلام آباد میں مرتکز رہا۔ اسی سوچ کے تحت پنجاب، چونکہ آبادی میں سب سے بڑا صوبہ تھا، وسائل کا بڑا حصہ بھی اسی کے حصے میں آتا رہا۔ چھوٹے صوبوں، بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختونخوا، کی شکایات ہمیشہ یہی رہیں کہ ان کے رقبے، پسماندگی، سیکیورٹی خدشات اور ترقیاتی ضروریات کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔1973 کے آئین نے اگرچہ قومی مالیاتی کمیشن کی بنیاد رکھی، مگر عملی طور پر ہر ایوارڈ سیاسی حالات کا عکاس رہا۔ کبھی مرکز مضبوط تھا تو صوبے پیچھے رہے، اور کبھی صوبوں کو مضبوط کرنے کے لیے مرکز نے پسپائی اختیار کی۔

وقت کے ساتھ ساتھ یہ احساس گہرا ہوتا گیا کہ اگر وفاق کو مضبوط رکھنا ہے تو صوبوں کو بھی مضبوط کرنا ہوگا۔ یہی وہ پس منظر تھا جس میں اٹھارویں آئینی ترمیم سامنے آئی۔ اس ترمیم نے نہ صرف متعدد اختیارات صوبوں کو منتقل کیے بلکہ این ایف سی ایوارڈ کو بھی ایک نئے فلسفے سے جوڑ دیا۔ 2010ء کے این ایف سی ایوارڈ میں پہلی بار آبادی کے ساتھ ساتھ غربت، پسماندگی، محصولات کی وصولی اور رقبے جیسے عوامل کو بھی شامل کیا گیا۔ یہ ایک سیاسی مفاہمت تھی، ایک سمجھوتا، جس کا مقصد چھوٹے صوبوں کو یہ یقین دلانا تھا کہ وفاق انہیں محض آبادی کے ترازو میں تولنے پر اصرار نہیں کرے گا۔

لیکن پاکستان کی سیاست میں کوئی بھی سمجھوتا مستقل نہیں ہوتا۔ معاشی بحران، بڑھتا ہوا قرض، دفاعی اخراجات اور مرکز پر دباؤ جب بھی بڑھتا ہے، این ایف سی ایوارڈ دوبارہ بحث کا موضوع بن جاتا ہے۔ آج ایک بار پھر یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا موجودہ این ایف سی فارمولا برقرار رہ سکتا ہے؟ یا پھر ریاست ایک بار پھر آبادی کو بنیادی اور فیصلہ کن معیار بنانے کی طرف لوٹ رہی ہے؟اسی پس منظر میں وقت کے ساتھ این ایف سی فارمولے میں دیگر عوامل شامل کیے گئے، جن میں غربت، پسماندگی، ریونیو جنریشن اور رقبہ شامل تھا۔ خاص طور پر ساتواں این ایف سی ایوارڈ ایک تاریخی سمجھوتہ قرار دیا گیا، جس میں صوبوں کا حصہ 47.5 فیصد سے بڑھا کر 57.5 فیصد کر دیا گیا۔ یہ فیصلہ اس وقت کی سیاسی قیادت نے وفاق کو کمزور کر کے صوبوں کو مضبوط کرنے کے فلسفے کے تحت کیا۔

یہی وہ مرحلہ تھا جہاں آئینی ترامیم، خصوصاً اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی، ریاستی ڈھانچے کا مستقل حصہ بن گئیں۔ 28ویں آئینی ترمیم کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ بحث مزید واضح ہو جاتی ہے کہ پاکستان میں وفاقی ڈھانچے کو ازسرِ نو متوازن کرنے کی کوششیں مسلسل جاری رہی ہیں۔ صوبوں کو زیادہ خودمختاری دینا محض سیاسی نعرہ نہیں تھا بلکہ آئینی سمت کا تعین تھا۔

تاہم وقت کے ساتھ ساتھ حالات بدل گئے۔ مرکز پر قرضوں کا بوجھ بڑھا، دفاعی اور انتظامی اخراجات میں اضافہ ہوا، اور بین الاقوامی مالی دباؤ نے وفاق کو مالی طور پر محدود کر دیا۔ ایسے میں این ایف سی ایوارڈ کا موجودہ فارمولا مرکز کے لیے ایک چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب ایک بار پھر ’’نظرِ ثانی‘‘ کی بات ہو رہی ہے۔

میرے نزدیک اصل مسئلہ یہ نہیں کہ این ایف سی ایوارڈ بدلا جائے یا نہ بدلا جائے، بلکہ یہ ہے کہ اسے کس بنیاد پر بدلا جائے گا۔ میرا تجزیہ یہ ہے کہ آنے والے این ایف سی ایوارڈ میں تقسیم کی بنیاد دوبارہ آبادی بننے جا رہی ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ آبادی ایک ایسا پیمانہ ہے جسے تکنیکی طور پر چیلنج کرنا مشکل ہوتا ہے۔ دوسری یہ کہ مرکز کے لیے آبادی کی بنیاد پر تقسیم زیادہ قابلِ دفاع ہوتی ہے، کیونکہ یہ ’’برابری‘‘ کا تاثر دیتی ہے، چاہے زمینی حقائق اس کے برعکس ہوں۔

اگر ایسا ہوا تو اس کا سب سے زیادہ فائدہ پنجاب کو ہوگا، جبکہ چھوٹے صوبوں کو ایک بار پھر یہ احساس ہوگا کہ ان کی پسماندگی کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ بلوچستان جیسے صوبے کے لیے، جہاں آبادی کم مگر رقبہ اور سکیورٹی اخراجات زیادہ ہیں، یہ فارمولا ہمیشہ مسئلہ رہا ہے۔ خیبر پختونخوا بھی دہشت گردی کے اثرات اور سرحدی ذمہ داریوں کا حوالہ دے کر خصوصی حصہ مانگتا رہا ہے۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا این ایف سی ایوارڈ کو محض معاشی دستاویز سمجھا جائے یا سیاسی معاہدہ؟ پاکستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی اسے تکنیکی مسئلہ سمجھ کر نمٹانے کی کوشش کی گئی، سیاسی ردعمل سامنے آیا۔ اور جب سیاسی اتفاق کے بغیر فیصلے کیے گئے، تو وفاقی اکائیوں میں بداعتمادی بڑھی۔

رانا ثنا اللہ کا یہ کہنا کہ تمام اتحادیوں کو اعتماد میں لیا جائے گا، دراصل اسی خدشے کا اعتراف ہے۔ این ایف سی پر زبردستی ممکن نہیں۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ موجودہ حالات میں مرکز کے پاس زیادہ آپشنز نہیں۔ بین الاقوامی مالی ادارے، بجٹ خسارہ، اور دفاعی ضروریات وفاق کو مجبور کر رہی ہیں کہ وہ وسائل کی تقسیم پر دوبارہ غور کرے۔

میری رائے میں اگر واقعی این ایف سی ایوارڈ کو آبادی کی بنیاد پر منتقل کیا گیا تو یہ ایک بڑا سیاسی فیصلہ ہوگا، جس کے اثرات صرف معاشی نہیں بلکہ سیاسی ہوں گے۔ یہ فیصلہ صوبوں اور مرکز کے درمیان ایک نئے مکالمے کو جنم دے سکتا ہے، یا پھر ایک نئی کشیدگی کو۔

آخر میں سوال یہی ہے کہ کیا پاکستان وفاقی توازن کو سیاسی دانشمندی سے سنبھال پائے گا یا ایک بار پھر اعداد و شمار کی آڑ میں بڑے فیصلے کر لیے جائیں گے؟ این ایف سی ایوارڈ کا آنے والا باب اسی سوال کا جواب دے گا۔

آخر میں یہ بات پوری سنجیدگی سے سمجھنے کی ہے کہ اگر این ایف سی ایوارڈ میں آبادی کو دوبارہ بنیادی اور غالب پیمانہ بنایا جاتا ہے تو یہی اصول مجوزہ اٹھائیسویں آئینی ترمیم کا مرکزی ستون بن سکتا ہے۔ اٹھائیسویں ترمیم دراصل وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل، اختیارات اور ذمہ داریوں کے نئے توازن کی کوشش ہوگی، اور این ایف سی کا نیا فارمولا اس ترمیم کی روح طے کرے گا۔ اگر آبادی کو واحد یا فیصلہ کن عنصر بنایا گیا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ مالی طاقت ایک بار پھر بڑے صوبوں کی طرف جھک جائے گی، اور یہی سوچ اٹھائیسویں ترمیم کی بنیاد بن سکتی ہے۔ یوں این ایف سی ایوارڈ محض مالی معاہدہ نہیں رہے گا بلکہ آئین میں ایک نئی سمت متعین کرنے والا فیصلہ ہوگا، جو آنے والے برسوں میں وفاقی ڈھانچے، صوبائی خودمختاری اور مرکز و اکائیوں کے تعلقات کی نوعیت کا تعین کرے گا۔